Showing posts with label Articles in Arabic. Show all posts
Showing posts with label Articles in Arabic. Show all posts

Wednesday, May 27, 2009

خطة جديدة للشرق الأوسط

واشنطن العاصمة – كثُر في الأيام الأخيرة لغط مفاده أن صانعي السلام في الشرق الأوسط على وشك تحقيق اختراق كبير، حيث يتوقع البعض أن يتم نشر تصريح في أعقاب زيارة رئيس الوزراء الإسرائيلي بنيامين نتنياهو إلى واشنطن في 18 أيار/مايو للقاء الرئيس باراك أوباما. هل سينجح أوباما بلوي أذرعة الإسرائيليين والفلسطينيين لدرجة أن يوافقوا في النهاية على المواضيع المختلفة؟

طالما كان أحد أكبر المعوقات في النزاع العربي الإسرائيلي كون المشكلة بالغة التعقيد. واقع الأمر أن نزاع الشرق الأوسط غير مكوّن من قضية واحدة، بل من مجموعة من القضايا متعددة الوجوه، يتوجب التعامل معها بشكل متزامن. لن يؤدي الفشل في التصرف بهذا الأسلوب إلى أية نتائج، ببساطة لأنه عندما يحين موعد قيام الأطراف ببحث القضية الثانية أو الثالثة، تكون التغييرات على الأرض، التي يثيرها "المخربون" قد أعادت توزيع الأوراق، وأرسلت الجميع إلى نقطة البداية. طالما كانت تلك واحدة من نواقص الإدارات الأمريكية السابقة، الجمهورية والديمقراطية على حد سواء، التي حاولت حل المشكلة عن طريق تقسيمها إلى قضايا منفصلة. لن ينجح ذلك ببساطة.

"لا يمكن حل القضية الفلسطينية بنداً بنداً"، حسب قول الدكتور زياد عسلي، رئيس مجموعة العمل الأمريكية من أجل فلسطين للكاتب.

"من الغباء عمل ذلك بالتقسيط"، يقول فيليب ويلكوكس أيضاً، وهو دبلوماسي أمريكي سابق عمل في الشرق الأوسط ويترأس الآن مؤسسة السلام في الشرق الأوسط.

إلا أن المهمة الصعبة سوف تكون وضع جميع الأجزاء في مكانها في الوقت نفسه، حسبما يوافق عدد من المراقبين. ولكن من أين نبدأ؟

وهنا يأتي دور جورج ميتشل. وميتشل بالطبع هو المبعوث الخاص للرئيس أوباما إلى الشرق الأوسط، الذي يفضل أن يلعب وأوراقه قريبة من صدره، حسب رأي رشيد الخالدي، وهو أستاذ جامعي فلسطيني أمريكي في جامعة كولومبيا بمدينة نيويورك، عمل مستشاراً للوفد الفلسطيني في مؤتمر مدريد عام 1991، وهو من المطّلعين جيداً على تعقيدات العملية السلمية في الشرق الأوسط.

ويتفق عدد من المحللين الآخرين، مثل الخالدي، على أن شيئاً ما يحصل في عملية السلام في الشرق الأوسط.

"هناك بعض الأمل في الجو"، حسبما صرّح السفير ويلكوكس للكاتب. كان هناك بالتأكيد شعوراً سائداً بالتفاؤل المتجدد في أوساط بعض المحللين بأن القضايا قد تتحرك قدماً في نهاية المطاف، بشكل متزامن، وإلى درجة كبيرة كنتيجة لفكرة جديدة قدمتها إدارة الرئيس أوباما، من خلال فريق جورج ميتشل على الأرجح. إلا أن ذلك أبعد من أن يكون تصرف رجل واحد. لقد أشركت جهود تحريك عملية السلام إلى النقطة التي وصلت إليها اليوم آلاف المشاركين.

يعتقد العديد من الخبراء أن الفكرة الجديدة سوف ترتكز إلى حد بعيد على مبادرة السلام العربية، وهي خطة شاملة لحل نزاع الشرق الأوسط جرى تقديمها للمرة الأولى في اجتماع لجامعة الدول العربية في بيروت عام 2002.

بدأت المبادرة كفكرة طرحها للمرة الأولى الملك فهد بن عبد العزيز، ملك السعودية الراحل، وهي تقدم لإسرائيل اعتراف الدول الـ 23 الأعضاء في جامعة الدول العربية (22 دولة إضافة إلى فلسطين) مقابل انسحاب إسرائيل إلى حدود ما قبل عام 1967. كان هناك حديث مؤخراً بإعادة إحياء مبادرة السلام العربية، وهو أمر يرغب رئيس الوزراء الإسرائيلي بنيامين نتنياهو برؤيته، حتى لا يظهر بأنه يقبل المبادرة بشكل كامل، حسب ما يعتقد نعوم شيليف من منظمة "الأمريكيون من أجل السلام الآن".

ورغم حقيقة أن الكثيرين يرون نتنياهو على أنه محافظ إلى أبعد الحدود، من المفيد التذكير أنه في الماضي، كان حزب الليكود هو الذي أعاد سيناء وانسحب من غزة، وهو الذي يمكن أن ينجز السلام مع الفلسطينيين.

"سوف يدهشنا نتنياهو جميعاً"، يقول بنيامين بن أليعازر، وهو وزير من حزب العمل، لصحيفة هآارتس اليومية.

"إنه يفهم أن هناك إدارة جديدة في الولايات المتحدة، وهي ليست مثل إدارة كلينتون أو بوش، وأننا إذا لم نأت بخطة سلام فسوف يتصرف طرف آخر نيابة عنا"، يقول بن أليعازر.

إلا أنه تبقى هنالك عقبة واحدة يتوجب القفز فوقها، تجعل بقية القضايا التي تم بحثها حتى الآن تبدو ضعيفة بالمقارنة، وهي قضية التسوية الداخلية بين الفلسطينيين، والجمع بين فتح وحماس. التناقض الذي يثير السخرية هو أن العقبة الأخيرة، في نهاية المطاف، التي ستؤخر إيجاد الدولة الفلسطينية، وهو حلم طالما رنا الفلسطينيون إليه لمدة طويلة، وحاربوا بشدة لتحقيقه وسكبوا الكثير من دمهم ودماء غيرهم من أجله، ستكون الفلسطينيين أنفسهم. ويخاطر الفلسطينيون بإطالة أمد النزاع لستين سنة أخرى ما لم يضعوا خلافاتهم وراءهم.

Tuesday, January 20, 2009

ذاتی دفاع کا حق امن کی درست حکمتِ عملی نہیں

واشنگٹن، ڈی سی: اسرائیلی نقطہ نظر کے مطابق غزہ پر حالیہ حملوں میں عام فلسطینی شہریوں کی ہلاکت اور بین الاقوامی غم و غصّہ حماس کی طاقت کو کچلنے کی قیمت ہے۔ یہ مقصد کافی گمراہ کن ہے۔ اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ اسرائیل فوری طور پر حماس کے راکٹوں کی تیاری کو آہستہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن 2006 میں لبنان کے محاصرے کی طرح غزہ کی فوجی حکمتِ عملی بھی حماس کی قیادت کو کمزور کرنے یا علاقے میں دیرپا بنیادوں پر سلامتی کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو گی۔

اسرائیل اور فلسطین دونوں کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن دفاع کرنے کے حق اور حالیہ تشدد اورحملوں کو ختم کرنے کی مؤثر حکمتِ عملی میں فرق ہے۔

حماس کے راکٹوں کے بنیادی اجزا دھات کے ڈبّے اور بارود سے بھرے وہ تھیلے نہیں ہیں جو مصر سے سرنگوں کے راستے لائے جاتے ہیں اور جنہیں بعدازاں غزہ کے گیراجوں میں تیار کیا اور داغا جاتا ہے۔ غزہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور حماس کے ارکان کو مارنے سے وہ محرک تباہ نہیں ہوتا جو ایک نوجوان فلسطینی لڑکے کو پتھر اٹھانے یا جسم سے بارود باندھ کر اڑانے پر مجبور کرتا ہے۔ حماس کے راکٹوں کا اصلی نسخہ تو مایوسی اور احساسِ ذلت کا وہ ماحول ہے جو غربت اور سیاسی نااہلی کے ایک پیچیدہ مُرّکب سے بنا ہے۔

غزہ ایک ایسی جیل ہے جہاں بے روزگاری کی شرح 45 فیصد ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ دنیا میں بے روزگاری کی بلند ترین شرح ہے۔ یہاں کی نصف آبادی 18 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جب کہ ایک تہائی لوگ پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں۔ فلسطینیوں کے پاس زمین بہت تھوڑی ہے اور انہیں بہت کم حقوق حاصل ہیں۔

غزہ کا محاصرہ فلسطینی علاقوں میں بھی انتہاپسند قیادت کو اسی طرح متحد کر سکتا ہے جیسے 2006 میں لبنان پر اسرائیلی حملوں سے حزب اللہ مضبوط ہوئی تھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے میں اعتدال پسند قیادت کمزور ہوجاتی ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں لوگ ان رہنماؤں کو نااہل اور بے کار سمجھنے لگتے ہیں۔ چونکہ غزہ میں صرف اعتدال پسند لوگ ہی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ بقائے باہمی پر رضامند ہیں اس لئے یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر اسرائیل مستقبل میں کس کے ساتھ گفت و شنید کی توقع لگائے بیٹھا ہے۔ اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی سیکورٹی کا حصول مزید دشوار بنا دے گی۔

یہی کُلیہ اسرائیل میں مزید اعتدال پسند قیادت کے امکانات پر بھی صادق آتا ہے۔ حماس کے حملوں نے اعتدال پسند اسرائیلی سیاست دانوں کے لئے امن کی بات کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ حماس کے راکٹ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلسطینی یونہی الگ تھلگ اور بین الاقوامی حمایت سے محروم رہیں گے۔ ان راکٹوں کی وجہ سے فلسطینیوں کا اپنے وطن اور جائز انسانی حقوق کے لئے انتظار طویل ہورہا ہے۔

اسرائیل کے لئے سیکورٹی اور حماس کے لئے وطن اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ایک بہتر اور ذہانت سے تیار کی گئی سٹریٹجی درکار ہے۔ امن اور سلامتی کے اجزائے ترکیبی یک طرفہ منصوبوں سے نہیں ملتے بلکہ اس کے لئے دونوں اطراف کی برابر توجہ اور ہمدردانہ رویّے کی ضرورت ہے۔

اس حکمتِ عملی کا آغاز وجہ اور اثر کی نئی اور مزید مشمولہ تعریف سے ہوتا ہے۔ غزہ پر حالیہ حملے کے حوالے سے اسرائیل کی کہانی اسرائیلی گھروں اور اسکولوں پر حماس کے راکٹوں کی بارش کے ناقابلِ معافی جرم سے شروع ہوتی ہے جس میں دو ہزار سال پر محیط امتیازی سلوک اور خوف سے بھری تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

فلسطینیوں کی کہانی کا محور اپنی زمین، گھر اور کاروبار دوسروں کے ہاتھوں چھن جانا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ پناہ گزین بن کر چھوٹے چھوٹے اجاڑ علاقوں میں محصور ہو گئے ہیں۔

ایک مؤثر حکمتِ عملی میں دونوں اطراف کی کہانیوں میں موجود جائز تحفّظات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں کی اس خطّے سے تاریخی وابستگی ہے۔ دونوں یہ جانتے ہیں کہ بغیر وطن والی قوم ہونا کیسا لگتا ہے اور دونوں میں اس سرزمین کو دوبارہ حاصل کرنے کا جذبہ موجود ہے جسے وہ اپنا سمجھتے ہیں۔ دونوں ہی خود کو دوسرے کا ستم گزیدہ سمجھتے ہیں۔

ایک بہتر اور دانشمندانہ حکمتِ عملی وہ ہوگی جس میں حماس اسرائیل کے بقا کے حق اور سلامتی جب کہ اسرائیل فلسطینیوں کی اندر پائی جانے والی بے چینی کا احساس کرتے ہوئے اس کی سیاسی اور اقتصادی وجوہات کو دور کرے۔

فلسطینیوں کو ایک ملک، کہیں بھی آنے جانے کی آزادی اور ملازمتیں پیدا کرنے کے لئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ رائے عامہ کے سروے بتاتے ہیں کہ دونوں طرف بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ رہاست ہائے متحدہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری اسرائیل اور فلسطین کے اعتدال پسندوں کے پیچھے کھڑی ہو اور انہیں ان انتہاپسندوں کے ہاتھوں گمراہ ہونے کی اجازت نہ دیں جو اس سیاسی اور اقتصادی مسئلے کا صرف فوجی حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

######

* لیزا شرِچ ایسٹرن مینو نائیٹ یونیورسٹی میں تعمیرِ امن کی پروفیسر اور تھری ڈی سیکورٹی سرگرمی کی ڈائریکٹر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے اوراسے درج ذیل ویب سائٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے:
www.commongroundnews.org

Monday, December 29, 2008

سفارت کاری اور پابندیاں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔

واشنگٹن ڈی سی: تبدیلی لوگوں کے اندازے سے زیادہ تیزی کے ساتھ وقوع پذیر ہوتی ہے۔ واشنگٹن میں ایران کے بارے میں سیاسی حقائق میں تیزی سے آنے والی تبدیلی پر بھی یہی کُلیہ لاگو ہوتا ہے۔

اب سے پچاس دن سے بھی کم عرصے میں امریکہ کی قیادت ایک ایسے صدر کے ہاتھ میں ہوگی جس نے تہران کے ساتھ مذاکرات کے وعدے کو اپنی انتخابی مہم کا حصّہ بنایا تھا – اور پھر بھی وہ جیت گیا۔
شاید اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ واشنگٹن کی سب سے طاقتور لابیوں میں شامل ایک گروہ انتخابات کے سال میں امریکی کانگریس کو ایران کی بحری ناکہ بندی کرنے کے حق میں قرار داد منظور کرنے کے لئے قائل کرنے میں ناکام ہوگیا حالانکہ اس قرار داد کی حمایت کرنے والے سینیٹرز کی تعداد 250 سے بھی زیادہ تھی۔

اب واشنگٹن میں بحث کا موضوع یہ نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں یا نہ، بلکہ یہ ہے کہ کیسے ، کب اور کس ترتیب کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مذاکرات ضرور ہوں گے یا کامیاب ہوں گے۔ اس کی ایک جزوی وجہ واشنگٹن کے سیاسی منظر نامے کی ایک خاصیت کا تبدیل نہ ہونا ہے اور وہ ہے سخت گیر ہونے کا تاثر دینے اور اپنا پلّہ بھاری رکھنے کے لئے اقتصادی پابندیوں پر انحصار۔

نو منتخب صدر بارک اوبامہ نے اس سال کے اوائل میں امریکہ اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کو بتایا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے اور اپنی ہی شکست کا باعث بننے والی " پیشگی شرائط" کو ختم کرنے کے وعدے پر قائم ہیں۔ لیکن اب وہ مکالمے کے حق والے مؤقف کو ایران کے خلاف مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کی خواہش کے ساتھ متوازن کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سینیٹر کے طور پر بارک اوبامہ ایران کے خلاف جامع پابندیوں، احتساب اور ڈائوسٹمنٹ ایکٹ 2008 کے شریک سپانسر تھے۔ اس ایکٹ کا مقصد موجود پابندیوں کو مزید سخت کرنا اور ایران کو مالی طور پر مزید کمزور کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس وقت اوبامہ نے دلیل دی تھی کہ پابندیاں کسی بھی سفارتی حکمتِ عملی کا لازمی جزو ہوتی ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا " جارحانہ، براہِ راست اور اصولوں پر مبنی سفارتی کوشش کے ساتھ ساتھ ہمیں ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے رہنا چاہیے۔" اوبامہ کے بعض مشیر ایک قدم مزید آگے بڑھ گئے اور انہوں نے کہا کہ 'چھڑی اور گاجر' ( ڈراوا اور ترغیب) کی حکمتِ عملی میں چھڑی یعنی پابندیوں کے نفاذ کو پہلے نمبر پر رکھنا چاہیے۔

اوبامہ یقیناً یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ایران کے بارے میں کامیاب اندازِ فکر میں ترغیب اور دباؤ دونوں شامل ہونی چاہئیں۔ اور یہ کہ مفروضے کے اعتبار سے پابندیوں سے امریکہ کا پلڑا مزید بھاری ہو جاتا ہے۔ لیکن اس نہج پر سوچنے میں قباحت یہ ہے کہ اس میں یہ احساس نہیں کیا جاتا کہ موجودہ پابندیوں نے ایران کے مقابلے میں امریکہ کا پلڑا پہلے ہی بہت بھاری کر رکھا ہے۔

لیکن یہ توازن اپنے حق میں ہونے کے فائدے کو صرف مذاکرات کے سیاق و سباق میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پابندیاں ایران کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اگر واشنگٹن ایران کے رویّے میں قابلِ قدر تبدیلی کے عوض انہیں اٹھانے پر رضامند ہو۔ ابھی تک واشنگٹن میں یہ رضامندی موجود نہیں ہے۔ بُش انتظامیہ فوقیت یا پلّہ بھاری ہونے سے مراد یہ لیتی تھی کہ کچھ دیئے بغیر کچھ حاصل کرلیا جائے۔ لیکن یہ سوچ واضح طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ اس میں مذاکرات کہیں نظر نہیں آتے بلکہ الٹی میٹم اور دھمکیاں ہی پائی جاتی ہیں۔

دوسری بات یہ کہ آپ اسی وقت کچھ لے سکتے ہیں جب بدلے میں کچھ دیا جائے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران کے رویّے میں تبدیلی دھمکیاں یا نئی پابندیاں لگانے سے نہیں بلکہ موجودہ پابندیاں اٹھانے کی پیش کش سے آئے گی۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں امریکہ کی ایران پر فوقیت کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

اس ساری گفتگو کا لُبِ لباب یہ ہے کہ اس فوقیت کو حقیقی شکل میں صرف اسی وقت ڈھالا جاسکتا ہے جب واشنگٹن اور تہران مذاکرات کی میز تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات سے قبل نئی پابندیاں لگانے کی طرف جھکاؤ اوبامہ کے ایجنڈے کے لئے بہت تباہ کُن ہوگا۔ ایران پر نئی پابندیاں چاہے کانگریس لگائے یا صدارتی حکم کے ذریعے لگائی جائیں، ان سے ماحول خراب ہوگا اور سفارت کاری کے امکانات معدوم ہوجائیں گے، دونوں دارالحکومتوں کے درمیان بد اعتمادی بڑھے گی جس کے نتیجے میں سب سے پہلے ایران پر امریکہ کی فوقیت سے فائدہ اٹھانے کی امریکی صلاحیت پر زد پڑے گی۔

یہی بات ایران پر بھی صادق آتی ہے۔ اگر ایران نے مذاکرات سے پہلے اپنا پلّہ بھاری کرنے کے لئے خطّے میں امریکی پالیسیوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں تیز کیں تو اس سے مذاکرات کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔

اپنے جمہوریت نواز ایجنڈے کو کامیاب بنانے کے لئے اوبامہ کو اس غلط فہمی سے پیچھا چھڑانا ہوگا کہ امریکہ کو ایران پر فوقیت حاصل نہیں ہے اور ایرانی پالیسی میں تبدیلی کے عوض موجودہ پابندیاں اٹھانے کی پیش کش کرنے کی قدر و قیمت کو پہچاننا ہوگا۔

انہیں نئی پابندیوں کے نفاذ سے مذاکرات تک جانے والی راہ میں مشکلات پیدا کرنے سے بچنا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی ان مقامی حلقوں کی طرف سے ڈالے جانے والے دباؤ کو بھی برداشت کرنا ہوگا جو پابندیاں لگانے کی تحریک دے کر ہمیشہ سے ہی ایران امریکہ تعلقات میں کسی اہم سفارتی پیش رفت کو روکتے رہے ہیں۔

ایران کے حوالے سے امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے ترغیب اور ڈراوے کے وہی پالیسی کامیاب ہوگی جس میں سفارت کاری کو مرکزی جب کہ پابندیوں کو ثانوی حیثیت دی جائے گی۔ اس ترتیب کو اس کے الٹ نہیں ہونا چاہیے۔

www.bitterlemons-international.org

Tuesday, December 9, 2008

تشاركوا في المساحة وتحدّوا الجدار

واشنطن – جرى فصل العرب واليهود لعقود طويلة قبل إنشاء جدار الفصل في الضفة الغربية وحول غزة. عندما سافر الرئيس السابق أنور السادات إلى غزة عام 1977، أعلن أمام الكنيست أن فصلاً كهذا لا يمكن إلا أن يأتي بالدمار والعزل والتغريب للعرب واليهود على حد سواء. جاء لمقابلة الإسرائيليين في منازلهم لتحدي مخاوفهم.

يعكس الجدار الفعلي بين الضفة الغربية وإسرائيل كيف قام الزعماء السياسيون الحاليون والعقائد السائدة بتعميق الصدوع الأخلاقية والعقلية والفعلية والاقتصادية والنفسية الإسرائيلية والفلسطينية. إلا أن التاريخ يظهر أن صدوعاً كهذه بين الأعداء في المناطق الجغرافية المتجاورة ذات الاعتماد المتبادل تفشل في تحقيق سلام حقيقي أو استقرار دائم (مثلاً ايرلندا الشمالية، جنوب إفريقيا أو ألمانيا).

هناك العديد من الإستراتيجيات للتخفيف من الآثار المعادية للجدار. برأيي أن أهم التوجهات سوف تعالج هذا الفصل من خلال إيجاد مساحة إسرائيلية فلسطينية مشتركة بصورة أكبر.

يعتبر الجدار مأساوياً للعلاقات العربية اليهودية لأنه يشجع عدم الاهتمام والتغريب والفصل والجهل فيما يتعلق بما يحصل على الجانب الآخر، وهي معاً تشكل شعور الإنسان بالمسؤولية تجاه النزاع. ويفتح الجدار الباب لعملاء العلاقات الاجتماعية، مثل السياسيين والواعظين والأساتذة، للإبقاء على صورة العدو على أنه "الآخر"، وفي الوقت نفسه تجاهل المعاناة الناتجة عن الفصل الفعلي والعقلي.

العلاج القصير الأمد والطويل الأمد للفصل الذي يفرضه الجدار هو التخفيف من أثره عبر التلاقي وجهاً لوجه وإيجاد المزيد من المساحات لمواجهة الآخر. ويستحق الأمر الاستثمار في مساحات مشتركة للّقاءات، طالما أن العلاقات متكافئة ومتوازنة وطالما أن المشاركين ممكّنين. يجب أن تزيد المساحات المشتركة المنتجة، مثل المواجهات بين الشباب والمغامرات الاقتصادية والمبادرات البيئية والاستقطاب غير العنفي وأعمال الاحتجاج، من قدرات الناس على أن يمارسوا النقد الذاتي وأن يروا الأخطاء على جانبهم، وأن توفر الآليات والأدوات والفرص للمشاركين لتطبيق الدروس التي تمت تعلّمها وأن تستكشف بدائلاً لمستقبل مشترك (على سبيل المثال، مشروع شبابي مشترك يركز على الأثر السلبي للجدار، مع احتمالات المشاركة في مجتمعاتهم، من خلال ترتيب زيارات وتحويل الجدار إلى منحوتات في قراهم، وقيام الفنانين بعرض أعمالهم ضد الجدار وضد الفصل في المدارس ... الخ).

تشكل المساحات الجديدة المشتركة، من مواجهات السلام والمشاريع التنموية المشتركة، إلى التبادل بين المزارعين ولقاءات رجال الدين، فرصة ثمينة، ومورداً يحتاج لأن يتم بناؤه وإدارته بشكل مهني محترف بشكل يضمن نضوج المشاركين من خلال المواجهة وتمكينهم لنشر الرسائل التي تضفي عليهم الإنسانية في مجتمعات كل منهم. يجب معاملة معسكر صيفي لطلاب المدارس الثانوية من الفلسطينيين والإسرائيليين على أنه مساحة نادرة بل ومقدسة تقريباً. فلمبادرات السلام والحوار العربية الإسرائيلية المتنوعة دوراً تاريخياً تلعبه في بناء المزيد من المساحات بأسلوب مبدع لأجل لقاءات مشتركة يتم فيها تحدي واقع جدار الفصل لا إدامته.

لقد أجبرت الجدران المتنوعة التي أنشأها السياسيون بين الإسرائيليين والفلسطينيين، الرمزية منها والفعلية، أجبرت الكثيرين على تبني عقلية الحصار. بالنسبة للإسرائيليين، تسيطر عقلية الحصار عندما يشعرون أنه يتوجب عليهم احتساب كل حركة يقومون بها عند سفرهم إلى الخارج. ولا يساعد الأمر كونهم محددون من السفر إلى خارج حدودهم المباشرة إلى الدول المجاورة، وهذا يمنعهم من معرفة كيف يفكر نظراؤهم الفلسطينيون ويعيشون.

كما يتم تعزيز عقلية الحصار الفلسطينية من خلال سجنهم الفعلي داخل جدار في قراهم، ومن قبل الحواجز ونقاط التفتيش العسكرية، ومن قبل وصول محدود إلى الطرح الإسرائيلي. وواقع الأمر هو أن عقلية الحصار لديهم قوية لدرجة أن العديد من الفلسطينيين يدهشون من تصرفات مجموعات التضامن في إسرائيل.

تستطيع هذه المساحات المشتركة أن تنزع اللغز عن الصورة الوحشية للآخر، مقدمة الضمانة الوحيدة بألا تنمو الأجيال الفلسطينية والإسرائيلية المقبلة في واقع من التجنب والإنكار، وإنما تكون لها فرصة لإعادة إضفاء الإنسانية على الطرف الآخر. لن يتمكن الشباب الإسرائيلي بعد ذلك من القول "لم نكن نعلم"، ولن يستطيع الشباب الفلسطيني أن يقول بعد ذلك "لا نستطيع أن نفعل شيئاً". سوف يقولون جميعاً "إننا نحاول".

يجب أن تشكل الجدران حول غزة مثالاً لما يمكن للإسرائيليين والفلسطينيين أن يتوقعوه في الضفة الغربية إذا لم يسعوا بنشاط للتسامي فوق ما يفصلهم: العنف المتصاعد وخلع الإنسانية عن الغزيين وحماس من قبل العالم الخارجي والمزيد من الاقتتال الفلسطيني والتهديدات المتواصلة لحدود إسرائيل الجنوبية.

كلما أوجد الإسرائيليون والفلسطينيون المزيد من المساحات المشتركة، كلما قلّت احتمالات أن يتجمهر الناس على الجانبين خلف قادتهم الذين يروجون لحلول أصولية ويعظون بعظمة طرف على آخر. يحتاج العرب واليهود الذين يحاربون الجدران والفصل الاجتماعي لأن يكسروا بأسلوب مبدع الخوف من العيش جنباً إلى جنب عن طريق إرسال رسائل ثابتة إلى مجتمعاتهم. يجب أن تشرح الرسالة أن اعترافاً صادقاً متبادلاً وتطبيقاً لحقوق الطرف الآخر في دولة ذات سيادة، متساوية ومستقلة هي الضمانات الأمنية الوحيدة لكلا الشعبين.

مصدر المقال: خدمة Common Ground الإخبارية، 8 كانون الأول/ديسمبر 2008

مؤشرات أمل في الشرق الأوسط

بالم بيتش غاردنز، فلوريدا – هناك أخبار حسنة وسيئة على حد سواء فيما يتعلق بوجهات النظر حول السلام في الشرق الأوسط. يشير استطلاع للرأي العام أصدرته مؤسسة غالوب الأسبوع الماضي إلى أن 63% من الإسرائيليين و66% من الفلسطينيين ما زالوا يدعمون عملية السلام. إلا أن 29% فقط من الإسرائيليين و18% فقط من الفلسطينيين المستَطلَعين يعتقدون أن السلام الدائم يمكن تحقيقه.

يريد كلٌ من الطرفين السلام إلا أنهما غير متشجعين، بينما يوفر انتخاب باراك أوباما رئيساً للولايات المتحدة الأمل بصنع السلام في الشرق الأوسط.

يجد معظم العرب أوباما أكثر مصداقية واتزاناً من جورج دبليو بوش، الرئيس الذي انتهت مدة رئاسته وإدارته. ورغم أن الإسرائيليين كانوا قلقين في البداية تجاه أوباما، إلا أنهم تشجعوا نتيجة لتصريحاته العديدة التي قدمت الدعم لإسرائيل، وكذلك نتيجة لتعيينه هيلاري كلينتون، المعروفة بدعمها الدائم لإسرائيل في المنصب الدبلوماسي الرئيس.

يمكن للرئيس القادم للولايات المتحدة أن يعيد ثقة الطرفين باحتمالات السلام الإقليمي إذا تمكن من تحقيق وعود حملته الانتخابية بوضع الشرق الأوسط في أعلى أجندة السياسة الخارجية.

كما أن هناك المزيد من مؤشرات الأمل بالنسبة للنزاع العربي الإسرائيلي.

يعكف الزعماء الإسرائيليون اليوم على بحث مبادرة السلام السعودية لعام 2002، والتي تنادي بإنهاء احتلال الأراضي العربية ومعاملة جيدة للاجئين وتطبيع للعلاقات بين إسرائيل و22 دولة عربية. كما أن هناك اتفاق الآن بين رئيس الوزراء الإسرائيلي إيهود أولمرت ووزيرة الخارجية تسيبي ليفني ووزير الدفاع إيهود باراك ورئيس الدولة شمعون بيريز على أن الانسحاب من الأراضي العربية يجعل من السلام في المنطقة أمراً ممكناً ويجعل أمن دولة إسرائيل على المدى البعيد قابلاً للتحقيق.

كما يشكل إعادة مرتفعات الجولان إلى سوريا خياراً آخراً مقابل السلام. وكانت المفاوضات المتقطعة مع سوريا، بترتيب من تركيا، قد بدأت السنة الماضية، إلا أنها تباطأت بينما تقوم إسرائيل بالإعداد لانتخابات مبكرة في شباط/فبراير ومع انتقال أوباما وإدارته إلى البيت الأبيض.

تنتهي بحلول الثامن من كانون الثاني/يناير المقبل فترة الرئيس الفلسطيني محمود عباس الرئاسية، بينما يبقى النزاع الأخوي في القيادة الفلسطينية واقعاً مكلفاً جنونياً رغم محادثات توسطت فيها مصر جرت مؤخراً بين الطرفين. ورغم أن الواقع على الأرض يشكل تحدياً، يقترح استطلاع غالوب الذي أجري مؤخراً أن الرئيس الأميركي المقبل قد يحوز على احترام الشعب الفلسطيني إذا اختار أن يلعب دوراً في تشجيع حماس، التي تملك زمام السلطة في غزة، وفتح التي تحكم الضفة الغربية، على العودة إلى التلاحم من أجل السلام.

يمكن رؤية التقدم في لبنان كذلك، حيث يقوم حزب الله بالتفاوض على وضع مليشياته مع الحكومة، وتوجد في لبنان حكومة جديدة لدى حزب الله تمثيل فيها. وبينما يعمل لبنان على تقوية دفاعه الوطني، وإذا خفَّت حدة التوتر مع إسرائيل، فقد تنخرط ميليشيا حزب الله في الجيش الوطني.

كذلك تحسنت العلاقات اللبنانية مع سوريا، حيث تستعد الدولتان لتبادل السفراء للمرة الأولى منذ استقلال لبنان عام 1943.

وهناك المزيد من مؤشرات الأمل تصدر من المنطقة ...

هنأ الرئيس محمود أحمدي نجاد أوباما بعد الانتخابات الأميركية، مُظهِراً رغبة بفتح صفحة جديدة من الحوار مع الولايات المتحدة. هذا التقارب مفيد للاستقرار داخل المنطقة، حيث يبقى إيران لاعباً إقليمياً هاماً يؤثر على الاستقرار في العراق وعلى المقاومة الفلسطينية والسلام السياسي في لبنان.

إلا أن هذه الخطوات الناشئة باتجاه السلام، بغض النظر عما إذا كانت في إسرائيل أو فلسطين أو سوريا أو لبنان أو إيران، هشة ويمكن عكس اتجاهها، ويجب دعمها من قبل الإدارة الأمريكية الجديدة إذا أُريد للسلام أن يسود.

قد تتسبب سياسة الولايات المتحدة المستمرة "بعدم الحديث مع العدو" في إيران بتقوية القوى المحافظة المتطرفة في الانتخابات الرئاسية في حزيران/يونيو المقبل. وطالما استمرت عملية عزل إيران فسوف يصعب على المستفيدين منها، مثل حزب الله وحماس، أن يصبحا شركاء كاملين في السلام.

يستطيع أوباما في خطابه ترسيمه في 20 كانون الثاني/يناير أن يربط وعد السلام مع الازدهار في الشرق الأوسط والأمن الوطني في أمريكا. كما أنه يستطيع تعيين مبعوث سلام معتدل يتمتع بشعبية، وأن يعبر عن طموحات بإيجاد دولة فلسطينية أثناء فترته الرئاسية الأولى. يستطيع كذلك أن يُطمئن الإسرائيليين والفلسطينيين بدعمه المتواصل، وأن يشير إلى رغبته القوية بإعادة إشراك أوروبا في العملية السلمية وتطوير ترتيبات أمنية عالمية.

بوجود سياسة خارجية متعددة الوجوه والمجالات وباستخدام لطيف للسلطة، قد يملك أوباما الآن الفرصة لتيسير حصول إسرائيل على الأمن والاستقلال للفلسطينيين وزعامة ذات مصداقية للولايات المتحدة لهذه العملية. لقد حان وقت التحرك قدماً. توفر شعبية أوباما محلياً وكم كبير من الدعم العالمي للرئيس الجديد رأس مال أخلاقي وسياسي لم يسبق لهما مثيل للعمل باتجاه السلام في الشرق الأوسط.


مصدر المقال: خدمة Common Ground الإخبارية، 6 كانون الأول/ديسمبر 2008

Tuesday, November 18, 2008

نعم نستطيع، هكذا يقول زعماء الشرق الأوسط لأوبا

عمان – هنأ الزعماء في كافة أنحاء الشرق الأوسط باراك أوباما على نصره التاريخي بعد أن أصبح الرئيس رقم 44 للولايات المتحدة. توقع البعض أن تشكل إدارته فجر سياسة وتوجه جديدين يأتيان بالسلام لمنطقة سادها الاضطراب الكبير أثناء السنوات الثمانية الماضية من رئاسة جورج دبليو بوش.

رحب بعض الزعماء العرب، المتحالفين تقليدياً مع واشنطن، بنصر أوباما تماماً كما كان متوقعاً منهم لو فاز المرشح الجمهوري جون ماكين.

ولكن على المستوى غير الرسمي، كان هناك شعور بالارتياح، مع أنه حَذِر، من أن البيت الأبيض سيستقبل، ولمدة أربع سنوات مقبلة رئيساُ من أصول إفريقية أبرزته حملته الانتخابية طوال 22 شهراً مضت كمُدافع عن السلام والحوار وذو عزيمة على حل الخلافات.

أعطت كلمات أوباما في خطاب النصر دفعة هامة للمتفائلين ذوي الآمال العالية بأنه سيتوجه بأسلوب أكثر إيجابية تجاه بقية العالم، وقد يكون تجاه القضايا العربية.

وقد تعرض أنصار أوباما هؤلاء خلال الشهور الماضية إلى الانتقاد من قبل العديد من العرب المتشائمين الذين اعتقدوا أن أوباما لن يستطيع تغيير ما يعتقدون أنها سياسة أمريكية متأصلة في الشرق الأوسط تميل تجاه إسرائيل.

إلا أن أوباما قدم كلمات مطمئنة ذات علاقة للعالم: "إلى جميع هؤلاء الذين يشاهدوننا الآن من وراء شواطئنا، من البرلمانات والقصور، وهؤلاء المجتمعون حول أجهزة الراديو في زوايا عالمنا المنسيّة: قصصنا تتعلق بنا شخصياً، ولكن مصيرنا مشترك. لقد بزغ فجر جديد في الزعامة الأمريكية".

منذ ساعات يوم الثلاثاء الأولى في المنطقة، التصق الناس بأجهزة التلفزة، بينما عرضت القنوات الإخبارية العربية تغطية حية منذ لحظة افتتاح مراكز الاقتراع إلى أن ألقى المرشحان الأمريكيان خطابي القبول والاعتراف بالهزيمة.

يقول النقاد أن الاهتمام بهذه الانتخابات الأمريكية لم يسبق له مثيل، والفضل في ذلك يعود إلى الضرر الذي تسبب به جورج دبليو بوش وإدارته في المنطقة نتيجة لما يسمى "الحرب على الإرهاب" ومن خلال الضغط على حلفاء الولايات المتحدة العرب للاستسلام لسياساته العسكرية غير المرغوبة.

لقد قال بعض القادة العرب، في رسائل التهنئة التي قدموها لأوباما، أنهم يأملون بأن يقوم الرئيس الديمقراطي المنتخب بالتفاعل الإيجابي في عملية تحقيق حل سلمي للنزاع الفلسطيني الإسرائيلي.

وقد صرح الرئيس المصري حسني مبارك: "نحن بانتظار مشاركتك البناءة باتجاه حل للقضية الفلسطينية وتحقيق سلام عادل وشامل، وهو الشرط الأساسي للأمن والاستقرار في الشرق الأوسط".

كما كرر الرئيس الفلسطيني محمود عباس، الذي أخذ يتعثر عبر مفاوضات سلام مع إسرائيل منذ أن أعاد بوش إطلاقها في أنابوليس السنة الماضية، كرر نفس كلمات مبارك تقريباً إلى أوباما. قال عباس أنه يأمل أن يقوم الرئيس الجديد "بتسريع الجهود لتحقيق السلام، خاصة وأن حل المشكلة الفلسطينية والنزاع العربي الإسرائيلي هو مفتاح السلام العالمي".

بدت إسرائيل أكثر ثقة بأن إدارة أوباما لن تغير سياسة الولايات المتحدة وتقوم بالضغط على الدولة اليهودية لصنع السلام مع الفلسطينيين من خلال وقف النشاطات الاستيطانية وإزالة الحواجز وفي نهاية المطاف الانسحاب من الضفة الغربية.

وقال رئيس الوزراء الإسرائيلي المغادر إيهود أولمرت أنه يتوقع أن تتقوّى الروابط بين أمريكا وإسرائيل نتيجة "للعلاقة الخاصة" بين البلدين.

كما صرحت حماس، الحركة السياسية الفلسطينية التي تسيطر على قطاع غزة والمدرجة على "قائمة الإرهابيين" التي وضعتها الولايات المتحدة، أنها تأمل أن "يتعلم أوباما من أخطاء الإدارة السابقة بما فيها إدارة بوش، التي قامت بتدمير أفغانستان والعراق ولبنان وفلسطين" حسب الناطق باسم حماس، فوزي برهوم.

في تلك الأثناء قالت الحكومة العراقية أنها لا تتوقع أي تغيير في السياسة تحت رئاسة أوباما بحيث يجري سحب سريع للقوات التي يبلغ عددها أكثر من 140,000 جندي أمريكي من العراق، الذي تعرض لغزو قادته الولايات المتحدة عام 2003 في حرب عارضها الرئيس المنتخب الجديد منذ البداية.

إلا أن الصدريين المعادين لأمريكا من الشيعة الذين تدعمهم إيران ويقودهم رجل الدين مقتضى الصدر وجدوا في نصر أوباما "رغبة من الشعب الأمريكي بسحب قواته من العراق"، حسب مطالب هذه المجموعة.

كما رحب السياسيون الإيرانيون بانتخاب أوباما على أنه تطور إيجابي وقالوا أن نصره ضد ماكين يعكس تعبيراً عن فشل سياسات الرئيس بوش الخارجية وهزائمها. وهم يأملون أن تتعلم الإدارة المقبلة من أخطاء الحكومة المغادرة في واشنطن.

على المستوى الرسمي سوف تنتظر طهران لترى إذا كانت سياسة أوباما الخارجية تختلف عن توجه بوش العدائي تجاه إيران. إلا أن التقارير من طهران تشير إلى تفاؤل حذر من أن أوباما سوف يحقق دعوته لحوار مع إيران لحل الجمود في المحادثات النووية مع الغرب، وربما تميهد الطريق نحو إعادة العلاقات التي انقطعت بين الدولتين منذ بدء الثورة الإسلامية عام 1979.

وأعربت سوريا، التي وضعتها إدارة الرئيس بوش على القائمة السوداء "كراعية للإرهاب" عن أملها بأن "يساعد انتخاب أوباما على تغيير سياسة الولايات المتحدة من سياسة الحروب والعقوبات والمقاطعات إلى سياسة الدبلوماسية والحوار"، حسب قول وزير الإعلام السوري محسن بلال.

وفي أفغانستان ناشد الرئيس حميد كرازاي الإدارة القادمة في واشنطن أن تغيّر إستراتيجيتها في ما يسمى "الحرب على الإرهاب"، قائلاً أنه "لا يمكن خوض هذه الحرب في القرى الأفغانية ... وإنما يجب توجيهها إلى أوكار ]الإرهابيين[ ومراكز تدريبهم". وقد حث كرازاي أوباما على وضع حد لتساقط الضحايا المدنيين في أفغانستان، حيث يُحارب 70,000 من جنود حلف الناتو بقيادة الولايات المتحدة دون نجاح قوات الطالبان وغيرهم من المتمردين المسلمين.

Tuesday, October 7, 2008

لدى إسرائيل وإيران أمور مشتركة كثيرة

واشنطن – ما زالت إسرائيل في الذكرى الستين لتأسيسها قلقة حول بقائها. حتى بوجود الأسلحة النووية وأقوى جيش في الشرق الأوسط، تبقى الدولة العبرية خائفة قلقة. كذلك يقلق الزعماء الإيرانيون حول مستقبل إدارتهم، حتى بينما تقترب الدولة من الذكرى الثلاثين لثورتها الإسلامية.

تخاف إسرائيل من أي تهديد محتمل، بغض النظر عما إذا كان آتٍ من حماس أو حزب الله أو المجموعات الإسلامية السياسية. كما بدأت كذلك تخاف من التركيبة السكانية المتحولة، حيث تزيد معدلات الولادة كثيراً بين الفلسطينيين من معدلاتها عند اليهود. ولكن بالدرجة الأولى، ترى إسرائيل التهديد آتٍ من إيران.

من ناحية أخرى، تشعر إيران بالتهديد من طرف قوة خارجية قد تعكس اتجاه ثورتها. يقاوم المحافظون المتدينون في إيران الإصلاحيين حسب رؤيتهم لهم، والذين حصلوا على الدعم في العديد من المناسبات من الولايات المتحدة، وتقف وحدها كدولة ذات غالبية شيعية في المنطقة.

إلا أن المحافظين في إيران، ورثة ثورة آية الله الخميني الإسلامية، يواجهون كذلك احتمالات رؤية نظامهم يستبدل من قبل أتباع الرئيس الإيراني السابق محمد خاتمي.

تتشارك إيران وإسرائيل بشعور من العزلة: تتكون إسرائيل من أقلية عرقية دينية (يهودية) في شرق أوسط غالبيته من العرب والمسلمين. بالمثل، تشكل حكومة إيران أقلية عرقية دينية (شيعة إيران) تحيط بهم دول سنية.

لا يعلم سوى قلة أن إيران تضم أكبر عدد من اليهود في الشرق الأوسط خارج إسرائيل. يوجد في غيران ثمانون كنيس يهودي (11 منها في طهران)، والعديد من المدارس العبرية. كما أن هناك 25 ألف يهودي مصممون على البقاء، لأنهم فخورون بثقافتهم الإيرانية مثل فخرهم بجذورهم اليهودية.

يتوجب على إيران وإسرائيل أن يتوقفوا عن كتابة الطروحات عن الآخر على أنه "العدو". ترى إسرائيل أحمدي نجاد على أنه تهديد، بينما يعتقد المتطرفون الإسرائيليون أن شرور العالم كله تنبع من إيران.

هذه المواقف سوداء وبيضاء أكثر مما هو ضروري، وهي كذلك مستقطبة. يقوم الطرفان بنشر الخوف لدى شعوبهم في الوقت الذي يتوجب عليهم فيه بالتأكيد تشجيع التضامن، أولاً من خلال رفض الطرح العدواني. يتوجب على الدول العمل على بناء تواصل أفضل بين مجتمعاتها، حتى يتسنى للشعبين إيجاد أرضية مشتركة من التفاهم.

يهتم الإيرانيون بصورة أقل بطروحات أحمدي نجاد من اهتمامهم باحتياجات بلدهم الملحّة. في آخر تصريح له، ينتقد حسن روحاني، مستشار خاتمي الأمني بشدة سياسات أحمدي نجاد ويهاجمه لأنه قام "بتدمير كرامة الشعب الإيراني إضافة إلى تفقيره". من الأرجح أن تصبح هذه الانتقادات متكررة مع اقتراب الانتخابات الرئاسية الإيرانية في حزيران/يونيو 2009.

يشكل الاقتصاد الآن وليس فلسطين الأولوية القصوى للشعب الإيراني. لا يدعم أفراد الجيل الجديد في إيران وإسرائيل، الذين يتطلعون قدماً لمستقبل أفضل، قرع طبول الحرب.

هذه الطبول لا تؤدي إلا إلى حرب تدمر الدول وتخنق التطور في أرجاء الشرق الأوسط. لا يمكن لأية دولة أن تربح، ولكن جميع الدول ستخسر.

ما الذي يمكن أن ينقذ إسرائيل وإيران من بعضها؟ بذور السلام فقط التي تكمن ساكنة في كلا الدولتين. تكمن هذه البذور في الشعبين الإيراني والإسرائيلي. وهي تحتاج لأن تستثمر من خلال تبادلات بين المجتمع المدني، بين الطلبة والمفكرين والعلماء والأطباء والمهندسين وأساتذة الجامعات بل وحتى رجال الدين، حيث يتشارك الطرفان في تجاربهما في محاربة التحديات المشتركة.

يحتاج الزعماء في كلا البلدين لأن يهتموا بهذه البذور حتى تنتشر وتنمو. هذا هو دور الذين يريدون إنقاذ شعوبهم وتراثهم وفي الوقت نفسه بناء مستقبل للأجيال القادمة.

###

* أنتوني زيتوني (anthonygaz@hotmail.com) باحث في مجال حل النزاعات مركزه واشنطن. كتب هذا المقال لخدمة Common Ground الإخبارية.

مصدر المقال: خدمة Common Ground الإخبارية، 6 تشرين الأول/أكتوبر 2008
www.commongroundnews.org

مدارس منفصلة – مخاوف مشتركة

القدس – تعيش الغالبية الكاسحة من الإسرائيليين في مجتمعات صغيرة معزولة. وينعكس ذلك ويتعزز في النظام التعليمي الإسرائيلي، الذي يجري على أربعة مسارات منفصلة: اليهودي العلماني، اليهودي الديني، اليهودي المتدين المتطرف، والعربي الإسرائيلي.

يشكل هذا التمييز الهيكلي تحدياً تربوياً كبيراً تجاه تطوير مجتمع مرتاح إلى حد ما مع أجزائه المتباعدة والمتنازعة أحياناً. يحرم توزيع الإسرائيليين للشباب (وأساتذتهم وأسرهم) بين الوطنية (يهود وعرب إسرائيليين) والتدين (علماني وديني)، من معرفة بعضهم بعضاً، الأمر الذي يرعى الصور النمطية ويولد الخوف. وقد يكون هذا أعظم حاجز نفسي لاعتناق التنوع الذي يميز مجتمعنا فوق كل شيء.

نحتاج كتربويين لأن نطور إستراتيجيات عملية للتغلب على الحلف الماكر المؤذي بين الخوف والتمييز، وهو تواطؤ يعمل على إفشال مجالات عملنا المستقبلية في تشكيل مستقبل مشترك أفضل.

يمكننا تبني واحد، أو خليط من التوجهات التالية نحو تعليم فاعل مشترك للمواطنين:

المدارس المتكاملة – إنشاء مدارس متكاملة يدرس فيها معاً الطلبة الذين "عادة" ما يدرسون بشكل منفصل. يتواجد عدد قليل ولكن متنامٍ من هذه المدارس على محورين رئيسيين اثنين: مدارس يهودية مشتركة "علمانية" و"دينية"، ومدارس مشتركة يهودية وعربية فلسطينية إسرائيلية. رغم بقاء الأعداد قليلة، تمثل المبادرتان تحولات هامة في النموذج، تساعد الإسرائيليين على تحدي الافتراضات المعهودة مثل "المدارس المنفصلة أمر عادي"، وتشجيعنا على تصور مستقبل مشترك بدلاً من هذا. إلا أنه رغم كون الأنظمة الحالية إيجابية بشكل كاسح إلا أنها تنزع لأن تتعامل مع توترات محددة في المجتمع الإسرائيلي. حسب معرفتي، لم يجرِ بعد تأسيس مدرسة تعكس التنوع الكامل للمجتمع الإسرائيلي.

المنهاج – تظهر الأبحاث والتجربة أن القيم والعقلية والمهارات الأساسية للعيش بارتياح مع التنوع لا تأتي بشكل طبيعي ولا يمكن اعتبارها أمراً مفروغاً منه. بدلاً من ذلك يجب تعلُّم هذه المهارات وممارستها وتعزيزها بشكل شامل ومنهجي.

من الأهمية بمكان، بينما يعيش الطلاب ويتعلمون بشكل منفصل ويتعرضون بشكل ثابت إلى مجال واسع من التوترات المجتمعية، أن يعرض المنهاج "الطرف الآخر" بشكل إيجابي. تعمل هيئات تعليمية عديدة، بما فيها تلك التي أنتمي إليها، بجدية لتطوير مجال واسع من البرامج التي تحقق هذه الشروط. إلا أن التربويين الإسرائيليين ما زالوا بعيدين عن تحقيق الإجماع حول الأهمية الأخلاقية والبراغماتية لتمثيل جميع الإسرائيليين "الآخرين" بصورة إيجابية في جميع المسارات المدرسية الأربعة.

نشاطات مشتركة – تقول "نظرية الاتصال من وضع متساوٍ" أنه يمكن تحقيق التغيير الإيجابي في المواقف من خلال "مواجهات" معدة ومنفذة بشكل صحيح بين أعضاء من مجموعات متنازعة. من المتفق عليه بشكل واسع أن الأوضاع "الصحيحة" تضم: توفير مكان حيادي ومنسقين غير منحازين، وعملية مستمرة بدلاً من حدث واحد، ومتابعة مناسبة، ووضع أهداف مشتركة يمكن تحقيقها.

تقوم وزارة التعليم بتشجيع مجال واسع من المواجهات التربوية بين الطلبة والأساتذة والأسر بالتعاون مع عدد كبير من المنظمات غير الحكومية. في جميع الأحوال، من الأهمية بمكان تحقيق هذه المواجهات على مبادئ العدل والتناسق، متجنبين "استخدام" مجموعة بهدف "تثقيف" المجموعة الأخرى.

ليس من المفاجئ أن مواجهات كهذه تشكل مجالاً من المآزق، لا يوجد لها من حيث المبدأ، أجوبة واضحة محددة، وإنما تتطلب كلاً من اعتبارات أخلاقية وبراغماتية: هل من المناسب تصميم مواجهة علمانية دينية يهودية يوم السبت عندما يضطر اليهود العلمانيون من المشاركين خوض تجربة يوم سبت ديني تتم ممارسته؟ رغم كوني إيجابي بشكل كامل حول قيام اليهود الإسرائيليين العلمانيين بخوض تجربة ملاحظة كهذه، فإن هذا يشكل عملية غير مناسبة لإعداد مواجهة، حيث أنها ليست متناسقة ولا متبادلة. يجب أن تحصل هذه المواجهات، بدلاً من ذلك، أثناء الأسبوع المدرسي.

هل يجب عقد المواجهات اليهودية والعربية الفلسطينية باللغة العبرية، اللغة الأولى لليهود الإسرائيليين واللغة الثانية للعرب الفلسطينيين الإسرائيليين؟ رغم عدم التناسق الواضح، هناك حاجة لعقدها بالعبرية، حيث أنه لا يوجد بديل الآن. إلا أن انعدام هذا التناسق الأساسي يمكن تجنبه إلى حد ما من خلال إعداد موازٍ وجلسات متابعة بالعبرية والعربية، ومن خلال الاعتراف بحلول وسطى براغماتية. (على المدى البعيد، يتوجب علينا أن نسعى لأن نعلم اليهود الإسرائيليين اللغة العربية، تماماً مثلما يتعلم العرب الفلسطينيون الإسرائيليون اللغة العبرية).

زيادة التنوع في أساتذة خطوط المدارس الإسرائيلية المنفصلة – يمكن لتكامل الأساتذة من خلفيات "أخرى" متنوعة أن يوفر، بشكل محتمل، أحد أقوى إستراتيجيات المواطَنة المشتركة المتوفرة. يتوجب على إستراتيجية تشتمل على أفضل الأساتذة الإسرائيليين المتوفرين، بغض النظر عن خلفيتهم، في مدارسنا أن يكون لها احتمال النجاح الأكيد في رفع مستوى الإنجازات بينما تقوم بزيادة معدلات الراحة لدى طلابنا حيال التنوع الموجود في مجتمعنا.

يتوجب اغتنام هذه الفرصة بشكل أوسع. يحتوي اشتمال أساتذة ذوي نوعية جيدة من خلفيات "أخرى" قليلة التمثيل بنجاح (العرب الفلسطينيون الإسرائيليون في مدارس يهودية إسرائيلية، المهاجرون الجدد، يهود متدينون في مدارس علمانية، أصحاب الإعاقات ... الخ)، يحتوي على إمكانات تحويل مجتمعات مدرسية بأكملها. بإمكان ذلك تغيير التوجهات والمواقف وتخفيف الفجوات ودعم الكبرياء الذاتية لمجموعات الطلبة الأضعف.

تقدم هذه الإستراتيجيات، إذا تم أخذها معاً وتطبيقها بشكل جيد واسع، أملاً كبيراً بأن تتمكن من تجهيز الجيل الإسرائيلي المقبل ليكون مرتاحاً أكثر مع مواطنيه. إلا أنه من الأساسي كذلك، وقد حان وقته منذ فترة، أن نبدأ كمجتمع أن نأخذ بعين الاعتبار الأهمية العميقة والمضامين البعيدة لخياراتنا الجماعية حتى الآن: أن نعيش ونتعلم بشكل منفصل.

###

* مايك براشكر هو مؤسس ومدير MERCHAVIM – معهد تقدم المواطَنة المشتركة في إسرائيل www.machon-merchavim.org.il. كتب هذا المقال لخدمة Common Ground الإخبارية.

مصدر المقال: خدمة Common Ground الإخبارية، 6 تشرين أول/أكتوبر 2008
www.commongroundnews.org

أوسلو بعد 15 سنة: حلم يتلاش

واشنطن – شكّل هذا الشهر ذكرى 15 سنة منذ توقيع إعلان المبادئ بين إسرائيل ومنظمة التحرير الفلسطينية في الحديقة الجنوبية للبيت الأبيض، الذي أطلق عملية أوسلو وأملاً جديداً للشرق الأوسط. جرى تجاهل الذكرى السنوية هذه بشكل واسع، وقد غطتها الجولات الأخيرة من الشكوك السياسية والتحولات الكبيرة في كل من إسرائيل (حيث أنتخب حزب كاديما الحاكم تزيبي ليفني زعيمة جديدة له) وفي المناطق الفلسطينية. بالتأكيد لم يكن هناك سبب كبير للاحتفالات أو المناسبات. آخر تقمص لروح أوسلو، أي الجهود في أنابوليس، آخذة في التوجه مترنحة نحو موعد آخر لسلام لم يجرِ تحقيقه، في نهاية عام 2008.

يشكل الفشل في أنابوليس هذا "لحظة أخرى من قرب الوصول" في عملية صحيحة من حيث الأساس، عانت من انعدام النجاح من حيث التوقيت الزمني والسياسة والشخصيات وببساطة من الحظ السيء. يقوم البعض بالإعراب عن فقدان الأمل – لن يكون هناك سلام في الأراضي المقدسة، حل الدولتين مجرد حلم، والأفضل الانتقال إلى ما هو أكثر وعداً. يقوم آخرون من أصحاب النفوس المتناقضة بالتعلق بخطط بديلة بحل الدولتين، بل يقوم البعض بعروض جميلة على برمجيات الحاسوب، إلا أن أياً منها لا يبدو عرضة للقبول، دعك من الحصول على دعم غالبية بين الجمهورين.

يبقى حل الدولتين الخيار الوحيد الذي يحوز على احتمالات حقيقية بالبقاء في أوساط الإسرائيليين والفلسطينيين. قد يكون ممكن التحقيق، ولكن بعد 15 سنة، من العدل أن نقول، على الأرجح، أن نموذج أوسلو لن يشكل المعادلة للوصول إلى هناك.

يبقى إطار عملية السلام الذي أورثته أوسلو صامداً حتى يومنا هذا. إلا أنه يعاني من عيوب هيكلية شديدة، أولها أن الأطراف، كجزء من العملية التدريجية، يمكنهم بناء الثقة حول قضايا مثل المستوطنات أو الأمن دون تحديد اللعبة النهائية فعلياً. المستقبل غير معروف والحاضر عدائي، وليس من المستغرب أن النتيجة ليست هي علاقة ثقة.

ثانياً، المفهوم السائد بأن مؤسسات الدولة يمكن بناؤها، وأن الاقتصاد الفلسطيني الناشئ يمكنه أن يزدهر وبأن باستطاعة السلطة الفلسطينية الموازنة بين المصداقية المحلية وكونها مقاول إسرائيلي لحفظ الأمن، وجميعها تحت ظروف من الاحتلال المستمر والعدائي الأجنبي. وهذا أمر لن ينجح.

ثالثاً، بدأت أوسلو حياتها كعملية تفاوضية ثنائية إسرائيلية فلسطينية (كان النرويجيون مضيفين ممتازين وفاعلين، ولكنهم لم يكونوا فاعلين في عقد صفقة). إلا أنه عندما يعود الأمر إلى الوصول إلى نتيجة نهائية حول الأمور الصعبة، مثل الحدود النهائية وكيفية تقسيم القدس ولغة بارعة حول موضوع اللاجئين، من المستبعد أن تستطيع الأطراف، بسبب الأحمال السياسية الثقيلة التي تحملها، أن تفعل ذلك وحدها. إلا أن أحداً لم يستطع أن يحمل الأطراف بنشاط عبر خط النهاية.

وأخيراً كانت أوسلو وما أنتجته من جهود السلام زائدة في آمالها في تحقيق صفقة إسرائيلية فلسطينية بمعزل عن التطورات الإقليمية الأوسع في الشرق الأوسط. لدى مسار سوريا أثره، وتشكل إدارة إيران عاملاً هاماً، كما هو شعور دول الخليج وغيرها من الدول العربية السنية. لم يكن هناك جهد إقليمي شامل بقيادة الولايات المتحدة أو المجتمع الدولي.

أضف إلى ذلك كله أن إطار أوسلو القائم كان مجهزاً بطريقة سيئة للتعامل مع ظهور سياسة ديمقراطية متعددة الأحزاب في فلسطين. ليس بالضرورة أن يعني الفوز السياسي لحماس نهاية حل الدولتين، ولكن يمكن للأسلوب الذي أُديرت فيه قضية حماس أن يعطي هذه النتيجة.

أشركت إدارة الرئيس بوش من خلال جهودها في أنابوليس عدداً زائداً من هذه المعوقات المتأصلة هيكلياً. سوف تكون تجربة وإغراءات الحكومة الأميركية الجديدة محاولة سنة سادسة عشرة جديدة، ومن ثم سنوات أخرى من التوجه نفسه. قد تأتي إدارة جديدة بحماسة أعظم وطاقة أشد، وقد تقوم حتى بتعيين مبعوث، إلا أن النتائج سوف تكون على الأرجح عادية مثل كونها غير مشجعة، في غياب تعديل هيكلي رئيسي. تعاني عملية أوسلو في سنوات مراهقتها هذه من قانون المردود المتلاشي، حيث يجري استهلاك الثقة مع كل تحول غير ناجح، وتلطيخ البراغماتية وزيادة تمسّك التشاؤم المتهكم.

يحافظ حل الدولتين على مرونة وصمود ودعم شعبي له قيمته، لولا انعدام جاذبيته وانعدام البدائل الجذابة. إلا أنه حتى هذه المرونة لا يمكنها الصمود أمام المزيد من الفشل والنكسات، الأمر الذي يترك إسرائيل وحليفها الأمريكي والفلسطينيين والمنطقة كلها بشكل محتمل دون حلول متوسطة المدى يمكن تحقيقها.

بعد 15 سنة هناك حلول أصبحت ملحّة وضرورية وكاد وقتها أن ينفذ: الحدود النهائية ضرورية (لا تعمل الحلول المستدامة وبناء المؤسسات الفلسطينية تحت الاحتلال). سوف تتطلب الحلول توجهاً شمولياً على مستوى المنطقة (خاصة مع سوريا وحماس)، ويتوجب على سحب الاحتلال فعلياً أن يبدأ من الأمام، مع توفير ضمانات إقليمية ودولية أمنية لإسرائيل، تتجسد بوجود فعلي للقوات العسكرية. ويمكن لذلك كله أن يدار من الخارج، ومن قبل الولايات المتحدة. قد يكون استيعاب هذا الواقع والتصرف بناء عليه الأسلوب الوحيد على الأرجح لتطبيق رؤية أوسلو المتلاشية لحل الدولتين.

###

* دانيال ليفي زميل كبير ومدير Prospects for Peace في مؤسسة القرن Century Foundation وقد عمل في مكتب رئيس الوزراء الإسرائيلي كمستشار خاص في إدارة إيهود باراك وكان عضواً في الوفد الإسرائيلي الرسمي المفاوض في محادثات أوسلو ب وطابا، والكاتب الإسرائيلي الرئيسي لمبادرة جنيف. تقوم خدمة Common Ground الإخبارية بتوزيع هذا المقال بإذن من Prospects for Peace.

مصدر المقال: Prospects for Peace، 29 أيلول/سبتمبر 2008
www.prospectsforpeace.com