Tuesday, January 20, 2009

ذاتی دفاع کا حق امن کی درست حکمتِ عملی نہیں

واشنگٹن، ڈی سی: اسرائیلی نقطہ نظر کے مطابق غزہ پر حالیہ حملوں میں عام فلسطینی شہریوں کی ہلاکت اور بین الاقوامی غم و غصّہ حماس کی طاقت کو کچلنے کی قیمت ہے۔ یہ مقصد کافی گمراہ کن ہے۔ اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ اسرائیل فوری طور پر حماس کے راکٹوں کی تیاری کو آہستہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن 2006 میں لبنان کے محاصرے کی طرح غزہ کی فوجی حکمتِ عملی بھی حماس کی قیادت کو کمزور کرنے یا علاقے میں دیرپا بنیادوں پر سلامتی کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو گی۔

اسرائیل اور فلسطین دونوں کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن دفاع کرنے کے حق اور حالیہ تشدد اورحملوں کو ختم کرنے کی مؤثر حکمتِ عملی میں فرق ہے۔

حماس کے راکٹوں کے بنیادی اجزا دھات کے ڈبّے اور بارود سے بھرے وہ تھیلے نہیں ہیں جو مصر سے سرنگوں کے راستے لائے جاتے ہیں اور جنہیں بعدازاں غزہ کے گیراجوں میں تیار کیا اور داغا جاتا ہے۔ غزہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور حماس کے ارکان کو مارنے سے وہ محرک تباہ نہیں ہوتا جو ایک نوجوان فلسطینی لڑکے کو پتھر اٹھانے یا جسم سے بارود باندھ کر اڑانے پر مجبور کرتا ہے۔ حماس کے راکٹوں کا اصلی نسخہ تو مایوسی اور احساسِ ذلت کا وہ ماحول ہے جو غربت اور سیاسی نااہلی کے ایک پیچیدہ مُرّکب سے بنا ہے۔

غزہ ایک ایسی جیل ہے جہاں بے روزگاری کی شرح 45 فیصد ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ دنیا میں بے روزگاری کی بلند ترین شرح ہے۔ یہاں کی نصف آبادی 18 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جب کہ ایک تہائی لوگ پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں۔ فلسطینیوں کے پاس زمین بہت تھوڑی ہے اور انہیں بہت کم حقوق حاصل ہیں۔

غزہ کا محاصرہ فلسطینی علاقوں میں بھی انتہاپسند قیادت کو اسی طرح متحد کر سکتا ہے جیسے 2006 میں لبنان پر اسرائیلی حملوں سے حزب اللہ مضبوط ہوئی تھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے میں اعتدال پسند قیادت کمزور ہوجاتی ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں لوگ ان رہنماؤں کو نااہل اور بے کار سمجھنے لگتے ہیں۔ چونکہ غزہ میں صرف اعتدال پسند لوگ ہی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ بقائے باہمی پر رضامند ہیں اس لئے یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر اسرائیل مستقبل میں کس کے ساتھ گفت و شنید کی توقع لگائے بیٹھا ہے۔ اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی سیکورٹی کا حصول مزید دشوار بنا دے گی۔

یہی کُلیہ اسرائیل میں مزید اعتدال پسند قیادت کے امکانات پر بھی صادق آتا ہے۔ حماس کے حملوں نے اعتدال پسند اسرائیلی سیاست دانوں کے لئے امن کی بات کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ حماس کے راکٹ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلسطینی یونہی الگ تھلگ اور بین الاقوامی حمایت سے محروم رہیں گے۔ ان راکٹوں کی وجہ سے فلسطینیوں کا اپنے وطن اور جائز انسانی حقوق کے لئے انتظار طویل ہورہا ہے۔

اسرائیل کے لئے سیکورٹی اور حماس کے لئے وطن اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ایک بہتر اور ذہانت سے تیار کی گئی سٹریٹجی درکار ہے۔ امن اور سلامتی کے اجزائے ترکیبی یک طرفہ منصوبوں سے نہیں ملتے بلکہ اس کے لئے دونوں اطراف کی برابر توجہ اور ہمدردانہ رویّے کی ضرورت ہے۔

اس حکمتِ عملی کا آغاز وجہ اور اثر کی نئی اور مزید مشمولہ تعریف سے ہوتا ہے۔ غزہ پر حالیہ حملے کے حوالے سے اسرائیل کی کہانی اسرائیلی گھروں اور اسکولوں پر حماس کے راکٹوں کی بارش کے ناقابلِ معافی جرم سے شروع ہوتی ہے جس میں دو ہزار سال پر محیط امتیازی سلوک اور خوف سے بھری تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

فلسطینیوں کی کہانی کا محور اپنی زمین، گھر اور کاروبار دوسروں کے ہاتھوں چھن جانا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ پناہ گزین بن کر چھوٹے چھوٹے اجاڑ علاقوں میں محصور ہو گئے ہیں۔

ایک مؤثر حکمتِ عملی میں دونوں اطراف کی کہانیوں میں موجود جائز تحفّظات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں کی اس خطّے سے تاریخی وابستگی ہے۔ دونوں یہ جانتے ہیں کہ بغیر وطن والی قوم ہونا کیسا لگتا ہے اور دونوں میں اس سرزمین کو دوبارہ حاصل کرنے کا جذبہ موجود ہے جسے وہ اپنا سمجھتے ہیں۔ دونوں ہی خود کو دوسرے کا ستم گزیدہ سمجھتے ہیں۔

ایک بہتر اور دانشمندانہ حکمتِ عملی وہ ہوگی جس میں حماس اسرائیل کے بقا کے حق اور سلامتی جب کہ اسرائیل فلسطینیوں کی اندر پائی جانے والی بے چینی کا احساس کرتے ہوئے اس کی سیاسی اور اقتصادی وجوہات کو دور کرے۔

فلسطینیوں کو ایک ملک، کہیں بھی آنے جانے کی آزادی اور ملازمتیں پیدا کرنے کے لئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ رائے عامہ کے سروے بتاتے ہیں کہ دونوں طرف بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ رہاست ہائے متحدہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری اسرائیل اور فلسطین کے اعتدال پسندوں کے پیچھے کھڑی ہو اور انہیں ان انتہاپسندوں کے ہاتھوں گمراہ ہونے کی اجازت نہ دیں جو اس سیاسی اور اقتصادی مسئلے کا صرف فوجی حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

######

* لیزا شرِچ ایسٹرن مینو نائیٹ یونیورسٹی میں تعمیرِ امن کی پروفیسر اور تھری ڈی سیکورٹی سرگرمی کی ڈائریکٹر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے اوراسے درج ذیل ویب سائٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے:
www.commongroundnews.org